موضوع الخطبة: النهي عن الفساد في الأرضالخطيب : فضيلة الشيخ ماجد بن سليمان الرسي/حفظه اللهلغة الترجمة: الأردوالمترجم: سيف الرحمن حفظ الرحمن التيمي (@Ghiras_4T)موضوع: زمین میں فساد پھیلانے کی ممانعتپہلا خطبہ:إن الحمد لله نحمده ، ونستعينه، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا ومن سيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادي له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمدا عبده ورسوله.(يَاأَيُّهَاالَّذِينَآمَنُوااتَّقُوااللَّهَحَقَّتُقَاتِهِوَلَاتَمُوتُنَّإِلَّاوَأَنْتُمْمُسْلِمُونَ)(يَاأَيُّهَاالنَّاسُاتَّقُوارَبَّكُمُالَّذِيخَلَقَكُمْمِنْنَفْسٍوَاحِدَةٍوَخَلَقَمِنْهَازَوْجَهَاوَبَثَّمِنْهُمَارِجَالًاكَثِيرًاوَنِسَاءًوَاتَّقُوااللَّهَالَّذِيتَسَاءَلُونَبِهِوَالْأَرْحَامَإِنَّاللَّهَكَانَعَلَيْكُمْرَقِيبًا)(يَاأَيُّهَاالَّذِينَآمَنُوااتَّقُوااللَّهَوَقُولُواقَوْلًاسَدِيدًا يُصْلِحْلَكُمْأَعْمَالَكُمْوَيَغْفِرْلَكُمْذُنُوبَكُمْوَمَنْيُطِعِاللَّهَوَرَسُولَهُفَقَدْفَازَفَوْزًاعَظِيمًا)حمد وثنا کے بعد!سب سے بہترین کلام اللہ کا کلام ہے، اور سب سے بہترین طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے، سب سے بدترین چیز دین میں ایجاد کردہ بدعتیں ہیں، اور ہر ایجاد کردہ چیز بدعت ہے، ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے۔اے مسلمانو! اللہ تعالی سے ڈرو اور اس کا خوف ہمہ وقت دلوں میں زندہ رکھو، اس کی اطاعت کرو اور اس کی نافرمانی سے بچتے رہو، جان رکھو کہ اللہ تعالی نے اصلاح کا حکم دیا ہے اور فساد وبگاڑ سے منع فرمایا ہے ، شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم سےکہا: ترجمہ: میرااردہ تو اپنی طاقت بھر اصلاح کرنا ہی ہے۔میری توفیق تو اللہ ہی کی مدد سے ہے۔اسی پر میرا بھروسہ ہے اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں۔اللہ تعالی نے اصلاح کرنے والوں سے اجر عظیم کا وعدہ فرمایا ہے ، فرمان باری تعالی ہے:(إِنْ أُرِيدُ إِلَّا الْإِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّهِ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ)ترجمہ: میںتوجہاںتکمجھسےہوسکے (تمہارےمعاملاتکی) اصلاحچاہتاہوںاور (اسبارےمیں) مجھےتوفیقکاملناخداہی (کےفضل) سےہے۔ میںاسیپربھروسہرکھتاہوںاوراسکیطرفرجوعکرتاہوں۔نیز اللہ نے یہ وعدہ بھی کیا ہے کہ ایسی بستی کو ہلاک نہیں کرے گا جس کے باشندے اصلاح کرنے والے اور حکم الہی پر چلنے والے ہوں، ارشاد ربانی ہے:(وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِيُهْلِكَ الْقُرَى بِظُلْمٍ وَأَهْلُهَا مُصْلِحُونَ)ترجمہ: آپ کا رب ایسا نہیں کہ کسی بستی کو ظلم سے ہلاک کردے اور وہاں کے لوگ نیکو کا ر ہوں۔اے مسلمانو! اصلاح کی ضد فساد وبگاڑ ہے ، اللہ تعالی فساد اور فساد پھیلانے والوں کو سخت نا پسند کرتا ہے:(واللَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ)ترجمہ: اللہ تعالی فسادیوں سے محبت نہیں کرتا۔اللہ نے فساد پھیلانے سے منع فرمایا ہے: (وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ)ترجمہ: زمین میں فساد نہ کرتے پھرو۔ساتھ ہی فسادیوں کو وعید بھی سنائی ہے:(فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ)ترجمہ: دیکھئے ان مفسدوں کا کیا انجام ہوا؟اللہ تعالی نے بہت سی فساد انگیز قوموں کو ہلاک وبرباد کردیا ، فرعون کے بارے میں اللہ کا فرمان ہے:(إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْأَرْضِ وَجَعَلَ أَهْلَهَا شِيَعًا يَسْتَضْعِفُ طَائِفَةً مِنْهُمْ يُذَبِّحُ أَبْنَاءَهُمْ وَيَسْتَحْيِي نِسَاءَهُمْ إِنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ)ترجمہ: یقینا ًفرعون نے زمین میں سرکشی کر رکھی تھی، اور وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا اور ان میں سے ایک فرقہ کو کمزور کر رکھا تھا اور ان کے لڑکون کو تو ذبح کر ڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ چھوڑ دیتا تھا۔بے شک وشبہ وہ تھا ہی مفسدوں میں سے ۔اللہ تعالی نے منافقوں کو فسادیوں سے متصف کیا ہے اور یہ بیان کیا ہے کہ وہ فساد کو اصلاح سے موسوم کرتے تھے، فرمایا: (وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ)ترجمہ: جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں۔خبر دار ہو! یقینا یہی لوگ فساد کرنے والے ہیں ، لیکن شعور (سمجھ) نہیں رکھتے۔اللہ تعالی نے مصلحوں اور فساد یوں میں تفریق کرتے ہوئے فرمایا: (أَمْ نَجْعَلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ كَالْمُفْسِدِينَ فِي الْأَرْضِ أَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِينَ كَالْفُجَّارِ)ترجمہ: کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان کے برابر کردیں گے جو (ہمیشہ) زمین میں فساد مچاتےرہے، یا پرہیزگاروں کو بدکاروں جیسا کردیں گے؟اے مومنو! عقیدے ، عبادات، اخلاق اور معاملات میں بھی فساد پیدا ہو تا ہے، عقیدے میں فساد پیدا ہونے کی ایک شکل یہ ہے کہ : غیر اللہ سے تعلق داری رکھی جائے ، غیر اللہ کی قسم کھائی جائے ، اللہ کی شریعت کو چھوڑ کر کسی اور کے قانون کو فیصل بنایا جائے۔عبادات میں بگاڑ پیدا ہونے کی شکل یہ ہے کہ جان بوجھ کر فجر کی نماز طلوع آفتاب کے بعد ادا کی جائے، بدعتوں اور دین میں ایجاد کردہ اعمال کے ذریعہ اللہ کا تقرب حاصل کیا جائے ، جیسے عید میلاد النبی ۔اخلاق میں فساد پیدا ہونے کی صورت یہ ہے کہ : بے پردگی اور عملی میدانوں میں مرد وزن کے درمیان اختلاط کا مظاہرہ کیاجائے ، ہم زبان کی آفتوں کا شکار ہوں ، موسیقی اور گانے سنے جائیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:"یقینا میری امت میں کچھ ایسے لوگ ضرور پیدا ہوں گے جو زنا کاری ، ریشم کا پہننا، شراب نوشی اور گانے بجانے کو حلال سمجھیں گے"۔معاملات میں فساد پیدا ہونی کی ایک صورت یہ ہے کہ : سودی معاملات کئے جائیں، اللہ تعالی کا فرمان ہے:(يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ)ترجمہ: اے ایمان والو! بڑھا چڑھا کر سود نہ کھاؤ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سود خور انسان پر لعنت کرتے ہوئے فرمایا: " سود لینے والے اور سود دینے والے ، سودی معاملہ کو لکھنے والے اور اس پر گواہی دینے والوں پر اللہ کی لعنت ہے " آپ نے فرمایا: وہ سب برابر ہیں" یعنی لعنت میں سب یکساں ہیں، کیوں کہ وہ اس معاملے میں ایک دوسرے کے معاون ہیں۔معاملات میں فساد پیدا ہونے کی ایک صورت جو بہت زیادہ رائج ہے ، وہ ہے : رشوت کا لین دین ، اس کی شکل یہ ہے کہ کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو اس مقصد سے مال دے کہ اسے وہ چیز مل جائے جس کا وہ مستحق نہیں ، یا اس پر سے وہ چیز ساقط کردے جو اس پر واجب ہے، عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے ، وہ فرماتے ہیں: (رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر لعنت بھیجی ) ۔رشوت کو غلول (خیانت) سے موسوم کیا گیا ہے، عبد اللہ بن بریدہ اپنے والد سے اور ان کے والد نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ نے فرمایا :( جسے ہم کسی کام پر متعین کریں اور اسے اس پر تنخواہ بھی دیں، تو جو وہ اس سے مزید لے گا وہ خیانت ہوگی)۔حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جسے ہم کسی کام پر متعین کریں اور اس پر اسے تنخواہ بھی دیں، تو اس کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اس کے بعد کوئی اضافی چیز لے ، اگر اس نے لیا تو وہ غلول ہوگا، اور غلول یہ ہے کہ مال غنیمت یا مسلمانوں کے بیت المال میں خیانت کی جائے۔یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ جو شخص تنخواہ دار ملازم ہو ، خواہ حکومتی دفاتر میں یا پرائوٹ اداروں میں، اس کے لئے یہ جائز نہیں کہ اس کی ملازمت کی وجہ سے دی جانے والے تحفے تحائف اور مال ومنال کو وہ قبول کرے ، اگر اس نے ایسا کیا تو وہ غلول ہوگا۔یہ تنبیہ بھی ضروری ہے کہ رشوت کا نام بدل دینے سے اس کی حقیقت نہیں بدل سکتی، جس نے رشوت لی اور اسے تحفہ یا اعزاز سے موسوم کیا تو وہ حقیقت میں رشوت خور ہی شمار ہوگا، کیوں کہ عبرت تو حقائق کا ہوتا ہے ناکہ ناموں کا ۔اللہ تعالی مجھے اور آپ کو قرآنِ عظیم کی برکت سے مالا مال کرے، مجھے اور آپ کو اس کی آیتوں اور حکیمانہ نصیحت سے فائدہ پہنچائے، میں اپنی یہ بات کہتے ہوئے اللہ تعالی سے اپنے لئے اور آپ سب کے لئے تمام گناہوں سے مغفرت طلب کرتاہوں، آپ بھی مغفر ت طلب کریں، یقینا ًوہ بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا اور خوب معاف کرنے والا ہے۔دوسراخطبہ:الحمد لله وكفى،وسلام على عباده الذين اصطفى.حمد وثنا کے بعد!رسولاللهصلىالله علیہ وسلمنےابنللتبیہنامیشخصکوبنوسلیمکی زکاةوصولکرنےکےلئےمقررکیا،چناں چہجبوہاپنیذمہداریسےفارغہواتوآکرعرض کیا:اےاللہکےرسول!یہمالآپکاہےاوریہمالمجھےتحفہدیاگیاہے۔نبیکریمصلیاللہعلیہوسلمنےفرمایاکہ: پھرتماپنےماںباپکےگھرہیمیںکیوںنہیںبیٹھےرہےاورپھردیکھتےکہتمہیںکوئیتحفہدیتاہےیانہیں؟اسکےبعدآپصلیاللہعلیہوسلمخطبہکےلیےکھڑےہوئے،راتکینمازکےبعداورکلمہشہادتاوراللہتعالیٰکیاسکیشانکےمطابقثناکےبعدفرمایا: امابعد! ایسےعاملکوکیاہوگیاہےکہہماسےعاملبناتےہیں (جزیہاوردوسرےٹیکسوصولکرنےکےلیے) اوروہپھرہمارےپاسآکرکہتاہےکہیہتوآپکاٹیکسہےاور یہ مجھےتحفہدیاگیاہے۔ پھروہاپنےماںباپکےگھرکیوںنہیںبیٹھااوردیکھتاکہاسےتحفہدیاجاتاہےیانہیں۔ اسذاتکیقسمجسکےہاتھمیںمحمد کیجانہے،اگرتممیںسےکوئیبھیاسمالمیںسےکچھبھیخیانتکرےگاتوقیامتکےدناسےاپنیگردنپراٹھائے ہوئے آئےگا۔ اگراونٹکیاسنےخیانتکیہوگیتواسحالمیں اسے لےکرآئےگاکہاونٹکیآوازنکلرہیہوگی۔اگرگائےکیخیانتکیہوگیتواسحالمیںاسےلےکرآئےگاکہگائےکیآوازآرہیہوگی۔ اگربکریکیخیانتکیہوگیتواسحالمیںآئےگاکہبکری ممیا رہیہوگی۔ بسمیںنےتمتکپہنچادیا۔ابوحمیدرضیاللہعنہنےبیانکیاکہ: پھر رسول اللہ صلیاللہعلیہوسلمنےاپناہاتھاتنااوپراٹھایاکہہمآپکیبغلوںکیسفیدیدیکھنےلگے۔(اللہتمہارےساتھرحموکرمکامعاملہکرے)مخلوقوں میں سبسےبہتریناورانسانوں میں سبسےزیادہپاکبازمحمدبنعبداللہ پر درودوسلامبھیجو،جوصاحبحوضکوثراورصاحبشفاعتہیں،اللہنےتمہیںاسکاحکم دیا ہے، چناں چہ عزت وسربلندی اور علم والے پروردگار کا فرمان ہے:اےایمانوالو!تم(بھی)انپردرودبھیجواورخوبسلام(بھی)بھیجتےرہاکرو۔اےاللہتواپنےبندےاوررسولمحمدپررحمتوسلامتیبھیج، انہیں مزیدسلامتیاوربرکتسےنواز،جوپررونقچہرہاورتابندہپیشانیوالاہے،اےاللہتوانکےچاروں خلیفہحضرتابوبکر،حضرتعمر،حضرتعثماناورحضرتعلیرضیاللہعنہمسےاوراپنےنبیمحمدصلیاللہعلیہوسلمکےتمامصحابہاورتابعینعظامسےاورقیامتتکاچھائیکےساتھانکیاتباعکرنےوالوںسےاورانکےساتھ ساتھ ہمسے بھی تواپنےعفوودرگزر،جودوکرماوراحسانوبھلائیکےصدقےراضیہوجا،اے تمام مہربانوں سے بڑے مہرباں۔اےاللہتواسلاماورمسلمانوںکوعزتوسربلندیعطافرما،شرکاورمشرکوںکوذلیلورسواکر،اےاللہتواپنےدین،اپنیکتاب،اپنےنبیکیسنتاوراپنے مومنبندوں کیمددونصرتفرما.اےاللہتوغمزدہمسلمانوںکےغمکودورفرما،پریشانحاللوگوںکیپریشانیکوختمکردے،مقروضوںکےقرضکیادئگیفرما،اوراے تمام مہربانوں سے بڑے مہرباں!تواپنیرحمتسےہمارےاورمسلمانوںکےمریضوںکوشفایابیعطاکر،۔اےاللہ!توہمارےنفسوںکوتقویعطاکر،انہیںپاکوصافکر،تونفسکوسبسےبہترپاکوصافکرنےوالاہے،توہیاسکانگہباناورمالکہے۔اےاللہ!توہمیںاپنےملکوںمیںامنوسلامتیعطاکر،ہمارےاماموںاورحاکموںکیاصلاحفرما،ہماریحکومتوفرماںروائیکاباگڈورایسےشخصکےہاتھمیںڈالجوتجھےسےخوف کھائے اورڈرے،اورتیریرضا کا طلب گار ہو،اےدونوںجہانکے پالنہار!اےاللہ!مسلمانوںکےتمامحکمرانوںکوتواپنیکتابکونافذکرنےاوراپنےدینکوسربلندکرنےکیتوفیقسےنواز،اورانہیںانکے رعایہکےلئےباعثرحمتبنا،اےہمارےرب!(رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ)ترجمہ: ہمیںدنیا میںنیکیدے،اورآخرتمیںبھیبھلائیعطافرما،اورعذابجہنمسےنجاتدے۔اللہتعالیہمارےنبیمحمد،آپکےاہلخانہاورجانشیںصحابہپررحمتنازلفرمائےاورخوبسلامتیبھیجے۔ازقلم:ماجدبنسلیمانالرسي۲۶ربیعالثانی۱۴۴۲ھشہرجبیل،مملکہسعودیہعربیہ.