البحث

عبارات مقترحة:

الملك

كلمة (المَلِك) في اللغة صيغة مبالغة على وزن (فَعِل) وهي مشتقة من...

الشافي

كلمة (الشافي) في اللغة اسم فاعل من الشفاء، وهو البرء من السقم،...

المتين

كلمة (المتين) في اللغة صفة مشبهة باسم الفاعل على وزن (فعيل) وهو...

شرح حديث جس نے اذان کو سنا اور (باجماعت) نماز کے لئے نہیں آیا...

ابن عباس - رضی اللہ عنہما - سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "جس نے اذان کو سنا اور (باجماعت) نماز کے لئے نہیں آیا تو اس کی نماز نہیں، سوائے اس کے کہ کوئی عذر لاحق ہو۔"

شرح الحديث :

اس حدیث میں اس بات کی ترغیب ہے کہ باجماعت نماز پر توجہ دی جائے اور اس کا انتہائی زیادہ اہتمام کیا جائے۔ نبی ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ جو شخص کسی ایسی جگہ ہو کہ باجماعت نماز کے لیے دی گئی اذان اسے سنائی دے تو اس کے لیے باجماعت نماز کے لیے آنا واجب ہے۔ اگر وہ نہیں آئے گا تو اس کی نماز ناقص اور کم ثواب والی ہوگی تاہم اس کے ذمہ واجب الاداء فرض پورا ہو جائے گا اور اس کے ساتھ ساتھ بلا عذر نماز باجماعت سے پیچھے رہ جانے کا گناہ بھی اس پر آئے گا۔ رہا وہ شخص جو کسی شرعی عذرجیسے بیماری، بارش یا جان و مال یا بچوں کے خوف یا اس طرح کی کسی اور وجہ کی بنا پر نہ پہنچ سکے تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔


ترجمة هذا الحديث متوفرة باللغات التالية