البحث

عبارات مقترحة:

المؤخر

كلمة (المؤخِّر) في اللغة اسم فاعل من التأخير، وهو نقيض التقديم،...

الصمد

كلمة (الصمد) في اللغة صفة من الفعل (صَمَدَ يصمُدُ) والمصدر منها:...

المبين

كلمة (المُبِين) في اللغة اسمُ فاعل من الفعل (أبان)، ومعناه:...

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پردہ دار کنواری لڑکی سے بھی زیادہ حیا دار تھے۔ جب آپ ﷺ کو کوئی بات ناپسند گزرتی، تو ہم اس ناپسندیدگی کے آثار آپ ﷺ کے چہرۂ مبارک پر پہچان جاتے تھے۔

شرح الحديث :

نبی ﷺ کنواری عورت سے بھی زیادہ حیا دار تھے، جس میں سب سے زیادہ شرم و حیا ہوتی ہے؛ کیوں کہ شادی نہ ہونے کی وجہ سے وہ مردوں کے ساتھ میل جول سے دور ہوتی ہے۔ چنانچہ وہ شرم و حیا کا پیکر بن کر اپنے گھر ہی میں رہتی ہے۔ لیکن رسول اللہ ﷺ اس سے بھی زیادہ حیا دار تھے۔ تاہم نبی ﷺ کو جب کوئی ناپسندیدہ یا ایسی بات نظر آتی، جو آپ ﷺ کی طبیعت کے برخلاف ہوتی، تو اس کے اثرات آپ ﷺ کے چہرۂ انور پر ظاہر ہو جاتے تھے۔


ترجمة هذا الحديث متوفرة باللغات التالية