البحث

عبارات مقترحة:

الحليم

كلمةُ (الحليم) في اللغة صفةٌ مشبَّهة على وزن (فعيل) بمعنى (فاعل)؛...

الرءوف

كلمةُ (الرَّؤُوف) في اللغة صيغةُ مبالغة من (الرأفةِ)، وهي أرَقُّ...

الشاكر

كلمة (شاكر) في اللغة اسم فاعل من الشُّكر، وهو الثناء، ويأتي...

ابو امامہ ایاس ابن ثعلبہ انصاری حارثی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے ایک دن آپ ﷺ کے پاس دنیا کا ذکر کیا۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم سن نہیں رہے ہو؟ کیا تم سن نہیں رہے ہو؟ سادہ لباسی ایمان کی علامت ہے، سادہ لباسی ایمان کی علامت ہے۔

شرح الحديث :

نبی ﷺ کے صحابہ میں سے کچھ لوگوں نے دنیا کے بارے میں گفتگو کی۔ نبی ﷺ نے انہیں فرمایا: "کیا تم سن نہیں رہے ہو؟" یعنی سنو۔تاکید پیدا کرنے کی غرض سے آپ ﷺ نے اسے دہرایا۔ لباس اور زینت میں تواضع اختیار کرنا اہلِ ایمان کے اخلاق کا ایک جز ہے جس کا سبب ایمان ہی ہوا کرتا ہے۔


ترجمة هذا الحديث متوفرة باللغات التالية