البحث

عبارات مقترحة:

الودود

كلمة (الودود) في اللغة صيغة مبالغة على وزن (فَعول) من الودّ وهو...

الحافظ

الحفظُ في اللغة هو مراعاةُ الشيء، والاعتناءُ به، و(الحافظ) اسمٌ...

الفتاح

كلمة (الفتّاح) في اللغة صيغة مبالغة على وزن (فعّال) من الفعل...

بہائیت
(بهائية)


من موسوعة المصطلحات الإسلامية

المعنى الاصطلاحي

مرزا حسین علی شیرازی ملقب بہ ’بھاء اللہ‘ کی طرف منسوب ایک باطنی فرقہ ہے۔

الشرح المختصر

’بہائیت‘: ایک خبیث باطنی فرقہ ہے جو کہ مرزا حسین علی (1233-1309هـ ،1817-1892م) کے ہاتھوں بابیت ہی کا امتداد (تسلسل) ہے، جب اس نے یہ اعلان کیا کہ باب کی کتابوں میں آنے والی عبارت "من يظهره الله" (مظہرِ اللہ) سے وہی مقصود ہے۔ اس نے دعوی کیا کہ باب نے اس کے آنے کی خوش خبری دی تھی۔ بہائیت کے نزدیک الباب سے مراد وہ شخص ہے جو ان کے اور بارہویں امام محمد بن الحسن العسکری کے مابین واسطہ ہوتا ہے۔ بعد ازاں اس نے مہدی منتظر ہونے کا دعوی کردیا۔ پھر اس نے نبوت و الوہیت کا بھی دعوی کیا اور یہ گمان کیا کہ اللہ تعالی اس میں حلول کرگیا ہے۔ (تعالى الله عن ذلك عُلُوّاً كبِيراً)۔ ان کے کچھ عقائد یہ ہیں:حلول و اتحاد ،تناسخ اور خلود کائنات کو ماننا۔ یہ عقیدہ رکھنا کہ ثواب و عقاب صرف روحوں کو ایسے طور پر ہوتا ہے جو خیال کے مشابہ ہوتا ہے۔ یہ انبیا کے معجزات اور فرشتوں اور جنوں کے وجود کا انکار کرتے ہیں اور جنت و دوزخ کو بھی نہیں مانتے۔

التعريف اللغوي المختصر

بہائیت: ملقب بہ ’بھاء اللہ‘ کی طرف منسوب ہے۔ ’البھاء‘ کا معنی ہے: خوبصورت منظر جس کی رونق آنکھ کو بھر دے۔