البحث

عبارات مقترحة:

القيوم

كلمةُ (القَيُّوم) في اللغة صيغةُ مبالغة من القِيام، على وزنِ...

السبوح

كلمة (سُبُّوح) في اللغة صيغة مبالغة على وزن (فُعُّول) من التسبيح،...

الحميد

(الحمد) في اللغة هو الثناء، والفرقُ بينه وبين (الشكر): أن (الحمد)...

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: ’’جس روزہ دار نے بھول کر کھا پی لیا وہ اپنا روزہ مکمل کرے۔ اسے اللہ نے کھلایا اور پلایا ہے۔

شرح الحديث :

اسلامی شریعت کی بنیاد آسانی اور سہولت پر رکھی گئی ہے۔ حسب طاقت ہی ذمہ داری ڈالی جاتی ہے اور جو شے استطاعت اور اختیار میں نہ ہو اس پر مواخذہ نہیں ہوتا۔ چنانچہ جس شخص نے بھول چوک سے رمضان میں یا اس کے علاوہ کسی اور روزے میں کچھ کھا پی لیا یا ان کے علاوہ کوئی اور ایسا کام کر لیا جو روزہ ٹوٹ جانے کا سبب ہوتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنا روزہ پورا کرے کیونکہ اس کا روزہ صحیح ہے اس لیے کہ ایسا اس کے اختیار سے نہیں ہوا۔ جو شے انسان بلا نیت بھول کر کرے وہ اس کے روزے کے لیے کچھ بھی مضر نہیں ہوتی اور اس پر کوئی اثر نہیں ڈالتی بلکہ یہ سب تو اس کے اللہ کی طرف سے ہوا ہوتا ہے جس نے اسے کھلایا اور پلایا۔


ترجمة هذا الحديث متوفرة باللغات التالية