البحث

عبارات مقترحة:

البصير

(البصير): اسمٌ من أسماء الله الحسنى، يدل على إثباتِ صفة...

الرءوف

كلمةُ (الرَّؤُوف) في اللغة صيغةُ مبالغة من (الرأفةِ)، وهي أرَقُّ...

المجيب

كلمة (المجيب) في اللغة اسم فاعل من الفعل (أجاب يُجيب) وهو مأخوذ من...

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ ’’ میں نے رسول اللہ ﷺ کو عرفات میں خطبہ دیتے ہوئے سنا کہ ’’جس مُحرم کو جوتے نہ ملیں وہ موزے پہن لے اور جس کے پاس تہبند نہ ہو وہ شلوار پہن لے‘‘۔

شرح الحديث :

ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کر رہے ہیں کہ نبی ﷺ نے عرفہ کے دن مقام عرفات میں خطبہ ارشاد فرمایا اور اس میں لوگوں کو جوتے نہ ملنے کی صورت میں موزے پہننے کی اجازت دی اور اس میں یہ ذکر نہیں کیا کہ ٹخنوں کے نیچے سے انہیں کاٹ دیا جائے۔ اسی طرح آپ ﷺ نے لوگوں کو اجازت دی کہ جسے تہبند نہ ملے وہ شلوار ہی پہن لے اور اس میں بھی آپ ﷺ نے اسے پھاڑنے کا حکم نہیں دیا۔ یہ شارع (اللہ سبحانہ وتعالیٰ) کی پُر حکمت ذات کی طرف سے دی گئی ایک سہولت تھی۔


ترجمة هذا الحديث متوفرة باللغات التالية