البحث

عبارات مقترحة:

اللطيف

كلمة (اللطيف) في اللغة صفة مشبهة مشتقة من اللُّطف، وهو الرفق،...

القابض

كلمة (القابض) في اللغة اسم فاعل من القَبْض، وهو أخذ الشيء، وهو ضد...

الجبار

الجَبْرُ في اللغة عكسُ الكسرِ، وهو التسويةُ، والإجبار القهر،...

سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: ”مقدور بھر کوشش کرو کہ بازار میں پہلے داخل ہونے والے اور بعد میں نکلنے والوں میں سے نہ بنو، کیوں کہ بازار شیطان کے فتنے کی جگہ ہے اور وہ وہاں اپنا جھنڈا نصب کرتا ہے“۔ اور ایک روایت میں ہے کہ ”بازار میں پہلے داخل ہونے والے اور بازار سے آخر میں نکلنے والے نہ بنو، اس لیے کہ بازار میں شیطان انڈے اور بچے دیتا ہے“۔ (یعنی وہ وہاں سکونت اختیار کرتا ہے)۔

شرح الحديث :

یہ سلمان رضی اللہ عنہ کے لیے رسول اللہ کی وصیت ہے جو کہ حکم کے معنیٰ میں ہے، کہ بازار میں سب سے پہلے نہیں داخل ہونا چاہیے اور نہ ہی بازار سے سب سے آخر میں نکلنا چاہیے اس لیے کہ بازار اللہ کے نزدیک سب سے مبغوض جگہ ہے، بازار ہی میں مرد و زن کا اختلاط ہوتا ہے، حرام نگاہیں پڑتی ہیں، حرام گفتگو ہوتی ہے، اور اس لیے بھی کہ لوگوں کے لیے شیطان بازار میں قبیح اور منکر چیزوں کو مزین کرتا ہے، اس طرح شیطان بازار میں انڈے اور بچے دیتا ہے یعنی اسے اپنا مسکن اور اپنی پسندیدہ جگہ بناتا ہے۔


ترجمة هذا الحديث متوفرة باللغات التالية