البحث

عبارات مقترحة:

المجيب

كلمة (المجيب) في اللغة اسم فاعل من الفعل (أجاب يُجيب) وهو مأخوذ من...

الرقيب

كلمة (الرقيب) في اللغة صفة مشبهة على وزن (فعيل) بمعنى (فاعل) أي:...

الأعلى

كلمة (الأعلى) اسمُ تفضيل من العُلُوِّ، وهو الارتفاع، وهو اسمٌ من...

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہےکہ رسول اللہ نے فرمایا: ”جو شخص دوسرے لوگوں کی بات سننے کے لیے کان لگائے، جو اسے پسند نہیں کرتے، تو قیامت کے دن اس کے کانوں میں سیسہ پگھلا کر ڈالا جائے گا“۔

شرح الحديث :

اس حدیث میں ان لوگوں کے خلاف سخت وعید وارد ہوئی ہے، جو ایسے لوگوں کی گفتگو کان لگا کر سنتے ہیں، جو اس بات کو بالکل پسند نہیں کرتے کہ کوئی ان کی گفتگو سنیں۔ دراصل یہ عمل ان بدترین اخلاق میں سے ہے جن کا شمار، کبیرہ گناہوں میں ہوتا ہے۔ چوں کہ اصول یہ ہے کہ عمل کا بدلہ اسی کی جنس سے دی جائے؛ اس لیے اس نے جن کانوں کے ذریعے بہ تکلف لوگوں کی گفتگو سنی، انھیں کانوں میں اس کو عذاب دیا جائے گا اور ان میں پگھلا ہوا سیسہ ڈالا جائے گا۔ نیز اس سے کو‏ئی فرق نہیں پڑتا کہ گفتگو کرنے والے کسی صحیح غرض کی بنا پر بات سننے دینے کو ناپسند کرتے ہوں یا بلا کسی سبب؛ کیوں کہ بعض لوگوں کو یہ بات گراں گزرتی ہے کہ کوئی ان کی بات سنے؛ چاہے گفتگو میں کسی قسم کا عیب یا حرام بات اور کوئی سبب نہ بھی ہو، لیکن پھر بھی ان کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ کوئی ان کی بات نہ سنے۔


ترجمة هذا الحديث متوفرة باللغات التالية