البحث

عبارات مقترحة:

الغفور

كلمة (غفور) في اللغة صيغة مبالغة على وزن (فَعول) نحو: شَكور، رؤوف،...

المحيط

كلمة (المحيط) في اللغة اسم فاعل من الفعل أحاطَ ومضارعه يُحيط،...

الملك

كلمة (المَلِك) في اللغة صيغة مبالغة على وزن (فَعِل) وهي مشتقة من...

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "وہ مؤمن جو لوگوں سے مل جل کر رہتا ہے اور ان کی ایذا رسانی پر صبر کرتا ہے، اس مؤمن سے بہتر ہے، جو لوگوں سے الگ تھلگ رہتا ہے اور ان کی ایذا رسانی پر صبر نہیں کرتا۔"

شرح الحديث :

اس حدیث میں لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہنے اور ان سے میل جول بڑھانے کی فضیلت کی دلیل ہے۔ بلاشبہ وہ مومن جو لوگوں کےمسائل کے تئیں انہماک کے ساتھ سرگرم عمل رہتا ہے، ان کے ساتھ میل جول اختیار رکھتا ہے اور اور انھیں نصیحت کرنے اور درست راہ دکھانے میں لاحق مصائب پر صبر و تحمل کا مظاہر کرتا ہے، اس مؤمن سے بہتر ہے جو لوگوں کے ساتھ میل ملاپ نہیں رکھتا، بلکہ ان کے اٹھنے بیٹھنے سے الگ رہتا ہے اور ان سے گوشۂ تنہائی کو ترجیح دیتا ہے یا انفرادی حیثیت سے اپنی زندگی کے شب و روز گزارتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ لوگوں کی جانب سے پہنچنے والی تکالیف پر صبر نہیں کرتا۔


ترجمة هذا الحديث متوفرة باللغات التالية