البحث

عبارات مقترحة:

التواب

التوبةُ هي الرجوع عن الذَّنب، و(التَّوَّاب) اسمٌ من أسماء الله...

المتين

كلمة (المتين) في اللغة صفة مشبهة باسم الفاعل على وزن (فعيل) وهو...

المحيط

كلمة (المحيط) في اللغة اسم فاعل من الفعل أحاطَ ومضارعه يُحيط،...

علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ان سے اور فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ ”جب تم دونوں اپنے بستر پر جاؤ- یا فرمایا جب تم سونے کے لیے جاؤ- تو تینتیس (33) مرتبہ اللہ اکبر، تینتیس مرتبہ (33) سبحان اللہ اور تینتیس مرتبہ (33) الحمد للہ پڑھ لینا“۔ ایک دیگر روایت میں ہے تسبیح (سبحان اللہ) چونتیس (34) مرتبہ جب کہ ایک روایت میں تکبیر (اللہ اکبر) چونتیس (34) مرتبہ پڑھنے کا ذکر ہے۔

شرح الحديث :

فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ سے چکّیْ پیسنے کی تکلیف کی شکایت کی اور اپنے والد سے ایک خادم مانگا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تم دونوں کو ایسی چیز نہ بتاؤں جو خادم سے بہتر ہے؟ پھر اس ذکر کی طرف دونوں کی رہنمائی فرمائی۔ بایں طور کہ جب تم اپنے بستر پر آؤ اور سونے لگو تو تینتیس (33) مرتبہ سبحانَ اللہ، تینتیس (33) مرتبہ الحمدُ للہ اور چونتیس (34) مرتبہ اللہُ اَکبر کہہ لیا کرو۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا یہ تمہارے لیے خادم سے بہتر ہے۔ اسی لیے انسان جب سونے کے لیے بستر پر جائے تو اس کے لیے تینتیس (33) بار سبحانَ اللہ، تینتیس (33) بار الحمدللہ اور چونتیس (34) بار اللہُ اکبر -یہ کُل 100 بار - کہنا مسنون ہے۔ یہ انسان کی ضروریات پوری کرنے میں ممد ومعاون ہیں ساتھ ہی یہ سوتے وقت بھی مفید ہیں کہ انسان اللہ کا ذکر کرکے سوتا ہے۔


ترجمة هذا الحديث متوفرة باللغات التالية