البحث

عبارات مقترحة:

المجيد

كلمة (المجيد) في اللغة صيغة مبالغة من المجد، ومعناه لغةً: كرم...

القهار

كلمة (القهّار) في اللغة صيغة مبالغة من القهر، ومعناه الإجبار،...

المتعالي

كلمة المتعالي في اللغة اسم فاعل من الفعل (تعالى)، واسم الله...

عبد اللہ بن خبیب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے مجھ سے فرمایا کہ صبح و شام تین تین بار قل هو الله أحد اور معوذتین (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) پڑھا کرو۔ ایسا کرنا تمہارے لیے ہر چیز سے کافی ہو جائے گا۔

شرح الحديث :

اس حدیث میں یہ منفرد نبوی رہنمائی ہے جو مسلمان کو اللہ تعالی کے ذکر میں لگے رہنے کی ترغیب دیتی ہے۔ جو شخص اللہ (کے اوامر و نواہی) کی حفاظت کرتا ہے تو اللہ اس کی حفاظت کرتا ہے۔ نبی اس حدیث میں عبد اللہ بن خبیب رضی اللہ عنہ اور آپ کے بعد آنے والی پوری امت کی اس جانب رہنمائی فرما رہے ہیں کہ جو شخص پابندی کے ساتھ صبح شام تین تین بار سورہ اخلاص اور معوذتین پڑھتا ہے تو ہر چیز میں اللہ تعالی اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔ اس حدیث میں ہر اس مومن کے لیے ایک بہت بڑی فضیلت و منقبت کا بیان ہے جو اپنے آپ کو ہر قسم کی برائیوں اور اذیت دہ امور سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس حدیث میں تین عظیم سورتوں کا بیان ہے جو کہ یہ ہیں: ا۔ سورہ اخلاص (قل هو الله أحد): یعنی وہ سورت جسے اللہ تعالی نے خالصتا اپنے لیے خاص کیا ہے اور اس میں صرف وہی اشیاء ذکر کی ہیں جن کا تعلق اس کی ذات پاک کے ساتھ ہے۔ یہ سب خالصتاً اللہ عز وجل کے لیے ہیں۔ جو شخص اس سورت کو پڑھتا ہے وہ اللہ کے لیے اپنے اخلاص کو کامل کر دیتا ہے۔ یہ سورت خالص بھی ہے اور مخلص (نجات دینے والی اور خالص بنانے والی) بھی بایں طور کہ یہ اپنے پڑھنے والے کو شرک سے نجات دیتی ہے۔ نبی نے وضاحت فرمائی کہ یہ ایک تہائی قرآن کے برابر ہے تاہم یہ بات نہیں کہ اس کی وجہ سے بقیہ قرآن کی ضرورت نہیں رہتی۔ ب۔ سورۃ الفلق: اس میں ہر اس چیز سے پناہ طلب کی گئی ہے جسے اللہ تعالی نے پیدا فرمایا ہے اور اسی طرح رات اور اس میں موجود تکلیف دہ چیزوں اور جادو گروں اور حسد کے شر سے بھی پناہ مانگی گئی ہے۔ چنانچہ اس میں وہ اکثر امور موجود ہیں جن سے مسلمان پناہ مانگتا ہے اور ان سے بچتا ہے۔ ج۔ سورۃ الناس: اس میں توحید کی جملہ اقسام موجود ہیں۔ رب الناس میں توحید ربوبیت ہے، ملک الناس میں توحید اسماء و صفات ہے کیونکہ مالک اپنے تمام اسماء و صفات کے ساتھ ہی مالک ہوا کرتا ہے۔ إلٰہِ الناس میں توحید الوہیت کا ذکر ہے۔ ﴿من شر الوسواس الخناس الذي يوسوس في صدور الناس من الجنة والناس﴾۔ سورت کا اختتام شیطان کے وسوسوں کی بُرائی سے پناہ مانگنے کے ساتھ ہوا ہے۔


ترجمة هذا الحديث متوفرة باللغات التالية