البحث

عبارات مقترحة:

المجيد

كلمة (المجيد) في اللغة صيغة مبالغة من المجد، ومعناه لغةً: كرم...

الرحمن

هذا تعريف باسم الله (الرحمن)، وفيه معناه في اللغة والاصطلاح،...

الظاهر

هو اسمُ فاعل من (الظهور)، وهو اسمٌ ذاتي من أسماء الربِّ تبارك...

ابو برزہ نضلہ بن عبید اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ ایک دفعہ ایک نوجوان لڑکی اونٹنی پر سوار تھی، اس پر لوگوں کا کچھ سامان تھا، اچانک اس نے نبی ﷺ کی طرف دیکھا، اس وقت لوگوں سے پہاڑ تنگ پڑ گیا تھا (غالباً دشوار گزار راستہ ہونے کی وجہ سے)۔ چنانچہ اس لڑکی نے کہا: حَلْ (اونٹ کی رفتار کو تیز کرنے کے لیے کلمۂ زجر) اے اللہ! اس پر لعنت فرما! تو نبی ﷺ نے فرمایا: ’’وہ اونٹنی ہمارے ساتھ نہ رہے، جس پر لعنت کی گئی ہو‘‘۔

شرح الحديث :

ایک کم سن دوشیزہ ایک اونٹنی پر سوار تھی، جس پر کچھ ساز و سامان تھا۔ اس نے نبی ﷺ کو دیکھا، جب کہ نبی ﷺ کے ساتھیوں کی وجہ سے پہاڑ تنگ ہو گیا تھا، تو اس نے اونٹنی کی رفتار کو تیز کرنا چاہا۔ اس نے اونٹنی سے کہا: حَلْ (اونٹ کو تیز رفتار کرنے کے لئے کلمۂ زجر) تاکہ تیز رفتاری سے چلنے لگے، پھر اس پر لعنت کر ڈالی، تو نبی ﷺ نے فرمایا: ہمارے ساتھ وہ اونٹنی نہ چلے، جس پر لعنت کی گئی ہے۔


ترجمة هذا الحديث متوفرة باللغات التالية