البحث

عبارات مقترحة:

الباطن

هو اسمٌ من أسماء الله الحسنى، يدل على صفة (الباطنيَّةِ)؛ أي إنه...

القاهر

كلمة (القاهر) في اللغة اسم فاعل من القهر، ومعناه الإجبار،...

الأول

(الأوَّل) كلمةٌ تدل على الترتيب، وهو اسمٌ من أسماء الله الحسنى،...

ابو خراش حدرد ابن ابی حدرد اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ’’جس نے اپنے بھائی کو ایک سال تک چھوڑے رکھا تو اس کا ایسا کرنا اس کو قتل کرنے کے مترادف ہے‘‘۔

شرح الحديث :

جس نے اپنے کسی بھائی سے کسی شرعی غرض کے علاوہ کسی اور وجہ سے قطع تعلقی کر لی اور یہ قطع تعلقی ایک سال تک چلتی رہی تو اس کے لیے سزا واجب ہو گئی جیسے اس کے خون بہانے سے سزا واجب ہو جاتی ہے یعنی تعزیزی سزا جو قاضی کی صواب دید پر ہو گی۔ ایسا اس لیے ہے تاکہ وہ اس سے باز آ جائے اور دوسروں کو اس سے تنبیہ ہو۔ تاہم اگر یہ قطع تعلقی کسی شرعی غرض سے ہو جیسے اہلِ بدعت اور فاسق لوگوں سے قطعِ تعلقی تو اس صورت میں مناسب یہ ہے کہ ہمیشہ جاری رہے جب تک کہ وہ توبہ نہ کرلیں اور حق کی طرف نہ لوٹ آئیں۔


ترجمة هذا الحديث متوفرة باللغات التالية