البحث

عبارات مقترحة:

البارئ

(البارئ): اسمٌ من أسماء الله الحسنى، يدل على صفة (البَرْءِ)، وهو...

المجيد

كلمة (المجيد) في اللغة صيغة مبالغة من المجد، ومعناه لغةً: كرم...

الحكم

كلمة (الحَكَم) في اللغة صفة مشبهة على وزن (فَعَل) كـ (بَطَل) وهي من...

شرح حديث أنس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ” گویا کہ...

أنس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ” گویا کہ میں دیکھ رہا ہوں غبار کی طرف جو بنی غنم کی گلیوں میں اٹھی تھی وہ حضرت جبریل علیہ السلام کے قافلے کی تھی یہ اس وقت کا ذکر ہے جب رسول اللہ ﷺ بنی قریظہ سے لڑنے کے لیے چلے“۔

شرح الحديث :

أنس بن مالك رضی اللہ عنہ خبر دے رہے ہیں کہ انہوں نے بنی غنم (خزرج کا ایک خاندان) کے کوچہ میں جو غبار اٹھتا ہوا دیکھا تھا وہ فرشتوں کے سپاہیوں کےاثر سے تھا، اور ان کے سربراہ حضرت جبریل علیہ السلام تھےجس وقت رسول اللہ ﷺ بنی قریظہ سے لڑنے کے لیے چلے تھے“ اور اثر یا نشان کو دیکھنے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ انہوں نے فرشتوں کو دیکھا ہو گا ممکن ہے دیکھا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ نہ دیکھا ہو، اس بارے میں کوئی شک نہیں کہ انہیں جبریل علیہ السلام کے قافلے کا علم رسول اللہ ﷺکے ذریعہ ہوا ہو گا۔


ترجمة هذا الحديث متوفرة باللغات التالية