البحث

عبارات مقترحة:

الآخر

(الآخِر) كلمة تدل على الترتيب، وهو اسمٌ من أسماء الله الحسنى،...

الودود

كلمة (الودود) في اللغة صيغة مبالغة على وزن (فَعول) من الودّ وهو...

النصير

كلمة (النصير) في اللغة (فعيل) بمعنى (فاعل) أي الناصر، ومعناه العون...

دخیل در تفسیر؛ تفسیر میں مذکور بے بنیاد باتیں
(الدَّخِيلُ فِي التَّفْسِيرِ)


من موسوعة المصطلحات الإسلامية

المعنى الاصطلاحي

قرآن پاک کی تفاسیر میں منقول ہر قسم کی باطل باتیں اور فاسد آراء ۔

الشرح المختصر

"الدخیل فی التفسیر" یعنی تفسیر میں داخل شدہ بے اصل باتوں سے مراد تفاسیر کی کتابوں میں درج ہر وہ بات ہے جس میں صحیح تفسیر کی شرائط و ضوابط نہ پائے جاتے ہوں۔ اس کی دو قسمیں ہیں: اول: ماثورات میں دخیل (داخل شدہ بے اصل باتیں) : جیسے اسرائیلی روایات اور نبی ﷺ یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ وغیرہ کی طرف منسوب ضعیف روایات۔ دوم: آراء میں دخیل (داخل شدہ بے اصل باتیں): اس میں بدعات و شبہات، فاسد مذاہب اور شاذ آراء سب آتی ہیں چاہے ان کا تعلق عقائد سے ہو یا فقہ و لغت یا کسی اور شے سے ہو۔