البحث

عبارات مقترحة:

القدوس

كلمة (قُدُّوس) في اللغة صيغة مبالغة من القداسة، ومعناها في...

الأحد

كلمة (الأحد) في اللغة لها معنيانِ؛ أحدهما: أولُ العَدَد،...

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن میں غسل کرتے تھے، جب کہ ہم دونوں جنبی ہوتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے (ازار باندھ لینے کا)حکم فرماتے، پس میں ازار باندھ لیتی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ مباشرت کرتے، جب کہ اس وقت میں حائضہ ہوتی اور آپ اعتکاف کی حالت میں اپنا سر مبارک میری طرف کر دیتے اور میں حیض کی حالت میں ہونے کے باوجود آپ کا سر مبارک دھو دیتی۔

شرح الحديث :

نبی اور آپ کی زوجۂ مطہرہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنھا دونوں ایک ہی برتن سے غسل جنابت فرماتے، اس لیے کہ وہ پانی پاک ہے، جنبی کا چلو سے پانی لینا پانی کو نجس نہیں کرتا، جب کہ اس نے برتن میں ہاتھ ڈالنے سے قبل انھیں دھولیا ہو۔ اس عمل سے نبی اپنی امت کے لیے اس امر کو مشروع وقرار دینا چاہتے تھے کہ حائضہ سے قربت اختیار کرنے میں کوئی حرج نہیں؛ کیوں کہ یہود حالت حیض میں اپنی بیویوں کو اپنے ساتھ نہ تو اپنے دسترخوان پر شریک کرتے ہیں اور نہ انھیں اپنے بستروں پر سلاتے ہیں۔ چنانچہ آپ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنھا کو ازار باندھ لینے کا حکم فرماتے، پھر ان کےساتھ جماع کے بغیر مباشرت فرماتے، جب کہ وہ اس وقت حالت حیض میں ہوتیں۔ نبی اعتکاف کی حالت میں اپنا سر عائشہ رضی اللہ عنھا کی جانب فرماتے، جب کہ آپ مسجد میں اور وہ اپنے گھر میں ہوتیں اور آپ کے سر مبارک کو دھو دیتیں۔ اس سے پتہ چلا کہ اس طرح کے کاموں کے لیے حائضہ عورت سے قربت اختیار کرنے میں کسی قسم کی ممانعت نہیں ہے۔ یقینا آپ نے یہودیوں کی مذہبی تنگی سے نجات دلاتے ہوئے وسعتیں پیدا فرمائیں، تاہم حائضہ کو مسجد میں داخل ہونے سے اس لیے روک دیا گیا کہ کہیں یہ مسجد کی نجاست کا باعث نہ بن جائے، جیسا کہ اس حدیث سے یہ امر واضح ہے۔


ترجمة هذا الحديث متوفرة باللغات التالية