الأكرم
اسمُ (الأكرم) على وزن (أفعل)، مِن الكَرَم، وهو اسمٌ من أسماء الله...
حفاظت کی غرض سے کسی کے پاس بلا معاوضہ اپنا مال رکھنا۔
وَدِیعہ: کسی کے پاس بلا معاوضہ اپنا مال رکھنا، بایں طور کہ وہ شخص اس میں کسی قسم کا تصرف نہ کرے۔ اس کا اطلاق ہوٹلوں اور بینکوں وغیرہ میں موجود تجوری پر ہوتا ہے جس میں امانتیں رکھی جاتی ہیں۔ (اسے آج کی زبان میں لاکرکہتے ہیں)۔جہاں تک بینک کی ودیعت کا تعلق ہے تو وہ اس مفہوم سے خارج ہے۔ اس لئے کہ بینک عینِ مال کی حفاظت نہیں کرتا بلکہ اس میں تصرف کرتا ہے۔ بینک کی ودیعت کی دو قسمیں ہیں: پہلی قسم: وہ ودیعت جس پر نفع نہیں ملتا، اسے کرنٹ اکاؤنٹ کہتے ہیں۔ اس کی صورت یہ ہے کہ صارف بینک میں اپنا مال اس شرط پر رکھتا ہے کہ جب چاہے نکال لے گا، اور اس پر اسے کوئی نفع حاصل نہیں ہوتا۔ دوسری قسم: وہ ودیعت جس پر صارف کو نفع ملے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ صارف بینک کے پاس اس شرط پر مال رکھتا ہے کہ طے شدہ مدت گزرنے کے بعد اسے اس پر نفع حاصل ہوگا(جیسے سیونگ اکاؤنٹ)۔ اس ودیعت کی کئی صورتیں ہیں۔ ان میں سے بعض جائز ہیں۔ یہ وہ صورت ہے جس کی بنیاد مضاربت پر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ تمام صورتیں حرام اور ناجائز ہیں۔
وہ چیز جس کی حفاظت کی جائے۔ وَدْعُ کا معنی حفاظت کرنا ہے۔ اور وَدِيعَةُ سے مراد محفوظ شدہ (چیز) ہے۔ وَدْع کا اصل معنی چھوڑنا اور خالی کرنا ہے۔ اسی سے وَدَاعْ ہے جس کا معنی چھوڑنا اور جُدا ہونا ہے۔ اور مُسْتَوْدَع –دال کی زبر کے ساتھ- کا معنی وہ جگہ ہے جہاں ودیعت (کردہ چیز؍ امانت) کی حفاظت کی جاتی ہے۔