البحث

عبارات مقترحة:

الشهيد

كلمة (شهيد) في اللغة صفة على وزن فعيل، وهى بمعنى (فاعل) أي: شاهد،...

البارئ

(البارئ): اسمٌ من أسماء الله الحسنى، يدل على صفة (البَرْءِ)، وهو...

الوكيل

كلمة (الوكيل) في اللغة صفة مشبهة على وزن (فعيل) بمعنى (مفعول) أي:...

شرح حديث زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کو چاشت کی نماز...

زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کو چاشت کی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، تو فرمایا: کیا انھیں معلوم نہیں کہ یہ نماز اس وقت کے علاوہ میں افضل ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ‘‘اوابین کی نماز کا وقت وہ ہے، جب اونٹنی کے بچوں کے پاؤں شدت گرمی کی وجہ سے جلنے لگیں’’۔

شرح الحديث :

زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو چاشت کی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، تو بتایا کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: اوابین کی نماز کا وقت وہ ہے، جب اونٹنی کے بچوں کے پاؤں شدتِ گرمی کی وجہ سے جلنے لگيں۔ یعنی چاشت کی نماز کا اول وقت وہ ہے ، جب سورج کافی اونچا ہو جائے اور اونٹنی کے بچوں کے پاؤں شدتِ گرمی کی وجہ سے جلنے لگيں۔ یہی وہ وقت ہے، جس میں اللہ تعالیٰ کے مطیع و فرماں بردار اور اس کی طرف رجوع کرنے والے بندے چاشت کی نماز ادا کرتے ہیں۔


ترجمة هذا الحديث متوفرة باللغات التالية