البحث

عبارات مقترحة:

المبين

كلمة (المُبِين) في اللغة اسمُ فاعل من الفعل (أبان)، ومعناه:...

القوي

كلمة (قوي) في اللغة صفة مشبهة على وزن (فعيل) من القرب، وهو خلاف...

المحسن

كلمة (المحسن) في اللغة اسم فاعل من الإحسان، وهو إما بمعنى إحسان...

شرح حديث ابو ہریرہ - رضی اللہ عنہ - سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ یہ...

ابو ہریرہ - رضی اللہ عنہ - سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے: ”اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي دِينِي الَّذِي هُوَ عِصْمَةُ أَمْرِي وَأَصْلِحْ لِي دُنْيَايَ الَّتِي فِيهَا مَعَاشِي وَأَصْلِحْ لِي آخِرَتِي الَّتِي فِيهَا مَعَادِي وَاجْعَلْ الْحَيَاةَ زِيَادَةً لِي فِي کُلِّ خَيْرٍ وَاجْعَلْ الْمَوْتَ رَاحَةً لِي مِنْ کُلِّ شَرٍّ“۔ اے اللہ! میرے دین کو درست کردے جو میرے معاملہ کامحافظ ہے، اور میرے دنیا کو درست کردے جس میں میری روزی ہے اور میری آخرت کو درست کردے جس میں میرا لوٹنا ہے اور میری زندگی کو ہر خیر میں زیادتی کا سبب بنادے اور موت کو میرے لیے ہر شر سے راحت بنادے۔

شرح الحديث :

یہ ان دعاؤں میں سے ہے جو آپ ﷺ مانگا کرتے تھے، جو دنیا و آخرت کی بھلائیوں پر مشتمل ہے، جس میں موت کو اپنے اوپر آنے اور نازل ہونے کو اس دنیا کے تمام شر سے راحت کا باعث بنانے، اسی طرح قبر کے شر سے راحت کا ذریعہ بنا دینے کیوں کہ (زندگی) اس سے پہلے اور بعد کے عمومی شر میں یہ شامل ہے اور اس کی عمر کو ایسے کاموں میں مصروف رکھنے جو اللہ کو پسند ہو اور ان کاموں سے بچانے پر مشتمل ہے جو اللہ کو ناپسند ہو۔


ترجمة هذا الحديث متوفرة باللغات التالية