البحث

عبارات مقترحة:

البارئ

(البارئ): اسمٌ من أسماء الله الحسنى، يدل على صفة (البَرْءِ)، وهو...

القيوم

كلمةُ (القَيُّوم) في اللغة صيغةُ مبالغة من القِيام، على وزنِ...

الحفي

كلمةُ (الحَفِيِّ) في اللغة هي صفةٌ من الحفاوة، وهي الاهتمامُ...

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کا اخلاق تو قرآن ہی تھا۔

شرح الحديث :

یعنی آپ ﷺ اس اخلاق سے آراستہ تھے جس کا حکم قرآنِ کریم نے دیا ہے اور جس سے منع کیا ہے اس سے رکتے تھے، خواہ یہ اللہ کی عبادات کے متعلق ہو یا مخلوق کے ساتھ معاملہ کرنے کے۔ آپ ﷺ کا اخلاق سراپا قرآن کریم ہے۔ اس حدیث میں امّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے اشارہ ہے کہ اگر ہم آپ ﷺ کے اخلاق کو اپنانا چاہیں تو ہمیں چاہیے کہ ہم قرآن کریم کے اخلاق کواپنائیں۔ اس لیے کہ آپ ﷺ کا اخلاق سراپا قرآن کریم ہے۔


ترجمة هذا الحديث متوفرة باللغات التالية