البحث

عبارات مقترحة:

المقدم

كلمة (المقدِّم) في اللغة اسم فاعل من التقديم، وهو جعل الشيء...

العزيز

كلمة (عزيز) في اللغة صيغة مبالغة على وزن (فعيل) وهو من العزّة،...

الأكرم

اسمُ (الأكرم) على وزن (أفعل)، مِن الكَرَم، وهو اسمٌ من أسماء الله...

قرآن کا انزال (اتارنا)
(إِنْزَالُ القُرْآنِ)


من موسوعة المصطلحات الإسلامية

المعنى الاصطلاحي

اللہ تعالی کا قرآن پاک کو ایک ہی دفعہ میں آسمان دنیا پر اتار دینا اور پھر جبرائیل علیہ السلام کے واسطے سے جب وہ اسے اللہ سے سن چکے ہوتے ہیں محمد ﷺ پر اتارنا۔

الشرح المختصر

قرانِ مجید کے نزول کے دو مرحلے ہیں: اول: لکھی ہوئی حالت میں سارے کے سارے قرآن کا لوحِ محفوظ سے آسمانِ دنیا پر واقع بیت العزت پر نزول۔ یہ نزول ماہ رمضان شبِ قدر میں ہوا۔ دوم: بعثت نبوی ﷺ سے لے کر آپ ﷺ کی حیات مبارکہ کے اختتام تک پیش آمدہ واقعات و حوادث کے مطابق قرآن کریم کا الگ الگ اور درجہ بدرجہ اللہ تعالی سے سن کر نزول بایں طور کہ اللہ تعالی نے قرآن کی شکل میں کلام فرمایا اور جبرائیل علیہ السلام نے اللہ تعالی سے اسے سنا اور پھر جبرائیل علیہ السلام سے نبی ﷺ نے سنا۔