البحث

عبارات مقترحة:

الأول

(الأوَّل) كلمةٌ تدل على الترتيب، وهو اسمٌ من أسماء الله الحسنى،...

الحيي

كلمة (الحيي ّ) في اللغة صفة على وزن (فعيل) وهو من الاستحياء الذي...

العزيز

كلمة (عزيز) في اللغة صيغة مبالغة على وزن (فعيل) وهو من العزّة،...

ایک ہی بیع میں دو بیع
(بَـيْعَتانِ في بَــيْعَةٍ)


من موسوعة المصطلحات الإسلامية

المعنى الاصطلاحي

ایک عقد میں دو عقد کرنا۔

الشرح المختصر

ایک بیع میں دو بیع: یہ بیع کی ممنوعہ اقسام میں سے ایک قسم ہے کیونکہ اس میں دھوکہ اور جہالت ہوتی ہے۔ ایک بیع میں دو بیع کی کئی صورتیں ہیں جن کی مندرجہ ذیل تین حالتیں ہیں: 1۔ ایک ہی سامان تجارت کی دو قیمتیں ذکر کرنا جیسے کوئی شخص سامان تجارت بیچتے ہوئے یوں کہے ”یہ نقد میں اتنے کی ہوگی اور ادھار میں اتنے کی یعنی ادھار میں نقد سے زیادہ قیمت میں ہوگی“ اور بائع ومشتری دونوں کسی ایک قیمت پر اتفاق کے بغیر ہی جدا ہو گئے۔ 2۔ ایک ہی قیمت پر دو سامان تجارت کا ذکر کرنا مثلاً یوں کہے کہ ”میں اپنی گاڑی اور اپنی عمارت دس ہزار ریال میں فروخت کرتا ہوں“۔ ہوسکتا ہے کہ آپ گاڑی خریدنا چاہتے ہوں اور وہ شخص آپ کو اس انداز کے ذریعے عمارت خریدنے پر آمادہ کرنا چاہتا ہو یا اس کے برعکس بھی ہوسکتا ہے۔ یا اس کی صورت اس طرح بھی ہو سکتی ہے کہ وہ سامان کو ایک دینار یا ایک بکری کے عوض میں فروخت کرے یا یہ کہ ایک دینار کے عوض بکری یا کپڑا فروخت کرے اور دونوں میں سے کسی ایک کی خریدی مشتری پر لازم کر دے۔ 3۔ ایک ہی عقد میں دو سَودے کیے جائیں مثلاً یوں کہے کہ ”میں یہ گھوڑا تمہیں ہزار میں بیچتا ہوں اس شرط پر کہ تم مجھے اپنا گھر اتنے میں بیچ دو“۔