البحث

عبارات مقترحة:

الوكيل

كلمة (الوكيل) في اللغة صفة مشبهة على وزن (فعيل) بمعنى (مفعول) أي:...

العزيز

كلمة (عزيز) في اللغة صيغة مبالغة على وزن (فعيل) وهو من العزّة،...

الحافظ

الحفظُ في اللغة هو مراعاةُ الشيء، والاعتناءُ به، و(الحافظ) اسمٌ...

قسموں کی حفاظت
(حِفْظُ الأَيْمانِ)


من موسوعة المصطلحات الإسلامية

المعنى الاصطلاحي

زبان کو بہت زیادہ قسمیں اٹھانے سے قابو میں رکھنا، قسم اٹھانے پر اسے نہ توڑنا اور قسم توڑ نے پر کفارہ ادا کرنا۔

الشرح المختصر

’قسموں کی حفاظت کرنا‘ ایمان اور تقویٰ والے لوگوں کی صفات و خصوصیات میں سے ہے۔ لوگ بہت زیادہ قسمیں کھانے میں مبتلا ہوتے ہیں اور ان میں سے بہت سے لوگ ان باتوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں جو اس کے سبب واجب ہوتی ہیں۔ چنانچہ نہ تو وہ اس کی حفاظت کرتے ہیں اور نہ اس کی پابندی کرتے ہیں۔ ’قسم‘ کی حفاظت میں تین چیزیں شامل ہیں: 1- صرف ضرورت کے وقت قسم اٹھانا۔ 2- قسم کی حنث (یعنی اسے توڑنے) سے حفاظت کرنا، سوائے اس کے کہ اس نے کسی مستحب کو چھوڑنے یا پھر کسی مکروہ کام کو کرنے کی قسم اٹھائی ہو۔ تو ایسی صورت میں اس کے لیے افضل یہ ہے کہ وہ قسم توڑ کر اس کا کفارہ ادا کرے۔ 3- حنث (قسم توڑنے) کی صورت میں قسم کا کفارہ ادا کرنا۔ ’حنث‘سے مراد یہ ہے کہ ’قسم اٹھانے والا وہ کام کر لے جس کے نہ کرنے کی اس نے قسم اٹھائی تھی یا پھر اس کام کو ترک کر دے جس کے کرنے کی اس نے قسم اٹھائی تھی۔