بغیر مہر کی تعیین کیے عورت کا نکاح کرانا۔ (التَّفْوِيض)

بغیر مہر کی تعیین کیے عورت کا نکاح کرانا۔ (التَّفْوِيض)


أصول الفقه

المعنى الاصطلاحي :


عقدِ نکاح کے وقت مہر مقرر کئے بغیر عورت کی شادی کرنا۔

الشرح المختصر :


تفویض: کسی اور شخص کو تصرف کرنے کا اختیار دینا۔ نکاح میں اس سے مراد عقد نکاح کے وقت مہر معین کرنے سے سکوت اختیار کرنا ہے بایں طور کہ اسے مقرر کرنے کا اختیار میاں بیوی میں سے کسی ایک کو یا ان کے علاوہ کسی اور کو سونپ دیا جائے۔ یا یوں کہا جائے کہ تفویض نکاح میں مستحقِ مہر کی اجازت سے مہر کا نہ ہونا، یا تو یہ اس کی نفی کرکے ہوسکتا ہے یا اس کے متعلق سکوت اختیار کرکے یا یہ کہ وہ مہر مثل سے کم رہے اس لیے یا یہ کہ وہ اس شہر کی نقدی میں نہ ہو اس لیے۔ اس کی دو اقسام ہیں: 1- تفویضِ مہر: یعنی بیوی یا شوہر یا ولی یا ان کے علاوہ کوئی اور شخص جتنا چاہے اتنے مہر پر نکاح کرنا۔ مالکی اس قسم کو تفویض کا نام نہیں دیتے بلکہ وہ اسے ’تحکیم‘ کہتے ہیں۔ 2- تفویضِ نکاح: اس کی صورت یہ ہے کہ باپ اپنی بیٹی کو مجبور کرکے بغیر مہر کے اس کا نکاح کردے، یا عورت اپنے ولی کو اجازت دے دے کہ وہ بغیر مہر کے اس کی شادی کردے۔

التعريف اللغوي المختصر :


التَّفْوِيضُ: بغیر کسی جھگڑے کے کسی دوسرے کو سونپنا۔ اسی سے کہا جاتا ہے: ”فَوَّضَ إِلَيْهِ الأَمْرَ تَفْوِيضاً“ یعنی اس نے کام اسے سونپ دیا اور اس کے حوالے کردیا۔ یہ معاملہ کو دوسرے کے حوالے کرنے کے معنی میں بھی آتا ہے۔