النصير
كلمة (النصير) في اللغة (فعيل) بمعنى (فاعل) أي الناصر، ومعناه العون...
وہ عورت جس کا شوہر نہ ہو، چاہیے اس کا شوہر مر چکا ہو یا اس نے اسے طلاق دے دی ہو۔
’ایم‘ اس عورت کو کہا جاتا ہے جس کا پردۂ بکارت صحیح نکاح کی وجہ سے زائل ہوچکا ہو اور اس کا شوہر اب موجود نہ ہو، خواہ وہ عورت مطلقہ ہو یا پھر اس کا شوہر مر چکا ہو۔
الأيِّمُ: وہ عورت جس کا خاوند نہ ہو یا وہ مرد جس کی بیوی نہ ہو چاہے اس نے اس سے پہلے شادی کی ہو یا نہ کی ہو۔ جب عورت بغیر شوہر کے ہو جائے تو کہا جاتا ہے: آمَت المَرْأَةُ، تَئِيمُ، أيْماً۔ یہ لفظ دراصل’أَيْم‘ سے ماخوذ ہے جس کا معنی ہے’باطنی کمی‘ جو ظاہری طور پر موجود نہ ہو۔