البحث

عبارات مقترحة:

المجيد

كلمة (المجيد) في اللغة صيغة مبالغة من المجد، ومعناه لغةً: كرم...

الغفور

كلمة (غفور) في اللغة صيغة مبالغة على وزن (فَعول) نحو: شَكور، رؤوف،...

الإله

(الإله) اسمٌ من أسماء الله تعالى؛ يعني استحقاقَه جل وعلا...

فضولی (اِذن شرعی کے بغیر کسی کے حق میں تصرف کرنے والا) (فُضُولِيٌّ)


أصول الفقه

المعنى الاصطلاحي :


جو شرعی اِذن کے بغیر کسی اور کے حق میں تصرف کرتا ہے۔

الشرح المختصر :


’فضولی‘: جو کسی بھی معاملے جیسے مثال کے طور پر عقدِ بیع وغیرہ میں تصرف کرے جب کہ وہ نہ تو اس کا ولی ہو، نہ اس کا اصل مالک اور نہ ہی وکیل ہو، یعنی اس شخص کو اس معاملے میں کوئی ولایت اور حق حاصل نہیں جس پر وہ اقدام کر رہا ہے۔ اس لیے کہ اُس کا تصرف کسی بھی ملکیت، وکالت اور ولایت کے بغیر ہوا ہے، جیسے کوئی غاصب شخص غصب شدہ مال میں بیع وغیرہ کے ذریعہ تصرف کرے، یا وکیل جو اپنے موکل کے حکم کے برخلاف خرید وفروخت یا تصرف کرے، تو وہ شخص بھی اس مخالفت کی وجہ سے فضولی سمجھا جائے گا، کیوں کہ اس کے موکّل نے اسے جن حدود کا پابند کیا تھا اس نے اس سے تجاوز کیا ہے۔

التعريف اللغوي المختصر :


’فضولی‘: جو لایعنی چیزوں میں مشغول رہے۔ ’فضول‘ کی طرف نسبت ہے، جو کہ ’فَضل‘ کی جمع ہے، اور اس کا معنی زیادتی ہے۔ اسی سے لایعنی چیزوں میں مشغول رہنے والے شخص کو فضولی کہا جاتا ہے، اس لیے کہ وہ زیادتی کرتا ہے اور حد سے تجاوز کر جاتا ہے۔