البحث

عبارات مقترحة:

البصير

(البصير): اسمٌ من أسماء الله الحسنى، يدل على إثباتِ صفة...

المقدم

كلمة (المقدِّم) في اللغة اسم فاعل من التقديم، وهو جعل الشيء...

التواب

التوبةُ هي الرجوع عن الذَّنب، و(التَّوَّاب) اسمٌ من أسماء الله...

اِبداع ( بغیر کسی نمونے کے عدم سے وجود میں لانا) (الِإبْدَاع)


العقيدة الفقه الثقافة والدعوة التربية والسلوك

المعنى الاصطلاحي :


کسی چیز کو بغیر کسی نمونے یا مثال کے (عدم سے) وجود میں لانا۔

الشرح المختصر :


’ابداع‘ کا معنی ہے: کسی شے کو عدم سے پیدا کرنا جب کہ اس سے پہلے اس کا کوئی وجود نھیں تھا۔’مبدِع‘ اس ذات كو کہا جاتا ہے جو ایسی چیز بنائے جس طرح کی چیز پہلے کسی نے نہ بنائی ہو۔ ’ابداع‘ کی دو قسمیں ہیں: 1۔ خالق کا ابداع: یہ اللہ سبحانہ کی ربوبیت کی سب سے خاص صفات میں سے ایک ہے، جو حسن، تخلیق اور مستحکم حیرت انگیز نظام کی منتہا کو پہنچا ہوتا ہے۔ 2۔ مخلوق کا ابداع: یہ اس کا اپنا ابداع ہے جو اس کی قابلیت اور کمزوری کے مطابق ہوتا ہے۔ وہ خالق کے ’ابداع‘ کی مانند نہیں ہوتا۔

التعريف اللغوي المختصر :


اِبداع: ’آغاز کرنا‘ اور ’ایجاد کرنا‘۔ کہا جاتا ہے: ”أَبْدَعَ الشَّيْءَ يُبْدِعُهُ إِبْدَاعًا“ یعنی اس نے اس کا آغاز کیا اور اسے ایجاد کیا۔ ’الإِبْدَاعُ‘ کسی شے کو بلا سابقہ نمونہ و مثال کے پیدا کرنے کے معنی میں بھی آتا ہے۔