البحث

عبارات مقترحة:

الظاهر

هو اسمُ فاعل من (الظهور)، وهو اسمٌ ذاتي من أسماء الربِّ تبارك...

القاهر

كلمة (القاهر) في اللغة اسم فاعل من القهر، ومعناه الإجبار،...

الودود

كلمة (الودود) في اللغة صيغة مبالغة على وزن (فَعول) من الودّ وهو...

تطہیر، پاکی حاصل کرنا (التَّطْهِيرُ)


الفقه أصول الفقه

المعنى الاصطلاحي :


نجاست اور گندگی کو دور کرنا، یا اس حدث کو دور کرنا جو نماز کے لیے رکاوٹ ہے۔

الشرح المختصر :


التَّطهِير: نجاست کو زائل کرنا چاہے وہ کپڑے پر ہو یا بدن یا جگہ پر ہو، یا اس حدث کو دور کرنا جو نماز کے لیے رکاوٹ ہے۔ حَدَث سے مراد وہ حالت ہے جو شرعاً طہارت کو ختم کرنے والی ہے۔ طہارت کی دو اقسام ہیں: طہارتِ کبریٰ: اس سے مراد جنابت اور حیض و نفاس کی وجہ سے غسل کرنا، یا جو اس کا قائم مقام ہے یعنی جنابت کی صورت میں تیمم کرنا ہے۔ طہارتِ صغریٰ: پیشاب وپاخانہ وغیرہ کے نکلنے کی وجہ سے وضو یا جو اس کا قائم مقام ہے یعنی چھوٹی ناپاکی کے لیے تیمم کرنا ہے۔

التعريف اللغوي المختصر :


التَّطْهيرُ: صفائی وستھرائی کرنا، کہا جاتا ہے: ”طَهَّرَ الشيءَ أو الشَّخْصَ“ اس نے فلاں شخص یا شے کی صفائی کی یعنی اسے نجاست سے پاک و صاف کیا، اس کا معنی پاک کرنا اور بری کرنا بھی آتا ہے۔