البحث

عبارات مقترحة:

المعطي

كلمة (المعطي) في اللغة اسم فاعل من الإعطاء، الذي ينوّل غيره...

التواب

التوبةُ هي الرجوع عن الذَّنب، و(التَّوَّاب) اسمٌ من أسماء الله...

الخلاق

كلمةُ (خَلَّاقٍ) في اللغة هي صيغةُ مبالغة من (الخَلْقِ)، وهو...

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”عورت، عورت کا نکاح نہ کرائے اور نہ عورت خود اپنا نکاح کرے، اس لیے کہ بدکار عورت ہی اپنا نکاح خود کرتی ہے“۔

شرح الحديث :

یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نکاح میں عورت کو ولایت کا حق حاصل نہیں ہے؛ نہ اپنے لیے اور نہ دوسری کسی عورت کے لیے۔ نیز ہر وہ نکاح جس میں عورت خود شادی کرتی ہے، باطل ہے۔ اور یہ قول: ”اس لیے کہ بدکار عورت ہی اپنا نکاح خود کرتی ہے“، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا ذاتی کلام ہے۔ اس سے آپ کی مراد یہ ہے کہ عورت کا از خود نکاح کرنا زانیہ کی پہچان ہے۔ چنانچہ بغیر ولی کے نکاح نہیں ہونا چاہیے۔


ترجمة هذا الحديث متوفرة باللغات التالية