البحث

عبارات مقترحة:

القيوم

كلمةُ (القَيُّوم) في اللغة صيغةُ مبالغة من القِيام، على وزنِ...

الواسع

كلمة (الواسع) في اللغة اسم فاعل من الفعل (وَسِعَ يَسَع) والمصدر...

النصير

كلمة (النصير) في اللغة (فعيل) بمعنى (فاعل) أي الناصر، ومعناه العون...

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ۔ یقینا شیطان اس گھر سے دور بھاگتا ہے جہاں، سورۃ البقرہ پڑھی جاتی ہے"۔

شرح الحديث :

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اس بات کی خبر دے رہے ہیں کہ نبی نے گھروں کو قبرستان بنانے سے منع فرمایا۔ قبرستان بنانا اس معنی میں ہے کہ ان گھروں میں نمازوں کا اہتمام نہ کیا جائے اور قرآن مجید کی تلاوت سے غفلت برتی جائے۔ گھروں میں نمازوں کا اہتمام نہ کرنے کی بنا پر انھیں قبرستان قرار دیا گیا؛ کیوں کہ قبرستان میں نماز پڑھنی درست نہیں ہے۔ پھر آپ نے یہ خبر دی کہ شیطان اس گھر سے دور بھاگتا ہے، جس گھر کے مکین اس میں سورۃ بقرہ کی تلاوت کرتے ہیں؛ کیوں کہ اس سورت کی تلاوت اور اس میں پائے جانے والے فرامین و احکام کی اتباع و پیروی کی صورت میں حاصل ہونے والی برکتوں کی بنا پر وہ اس بات سے مایوس و ناامید ہوچکا ہے کہ انھیں صراط مستقیم سے دور کرے یا انھیں گمراہی میں مبتلا کرے۔


ترجمة هذا الحديث متوفرة باللغات التالية