البحث

عبارات مقترحة:

الملك

كلمة (المَلِك) في اللغة صيغة مبالغة على وزن (فَعِل) وهي مشتقة من...

الفتاح

كلمة (الفتّاح) في اللغة صيغة مبالغة على وزن (فعّال) من الفعل...

القهار

كلمة (القهّار) في اللغة صيغة مبالغة من القهر، ومعناه الإجبار،...

عبد الله بن عامر بن ربيعہ رضی اللہ عنہ اپنے والد عامر بن ربيعہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ بنو فزارہ کی ایک عورت نے جوتوں کی ایک جوڑی پر نکاح کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے کہا کہ” کیا اپنی ذات کے بدلے دو جوتوں کے مال سے تو راضی ہو ہے؟ اس نے کہا کہ ہاں! چنانچہ آپ ﷺ نے اس کے نکاح کو جائز رکھا، ، ۔

شرح الحديث :

عامر بن ربيعہ رضی اللہ عنہ نے اس حدیث میں ذکر کیا ہے کہ کہ بنو فزارہ کی ایک صحابیہ عورت جس کا مہر نکاح صرف جوتوں کی ایک جوڑی پر تھا، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے پوچھا کہ کیا تو اس مہر پر راضی ہے؟ تو اس نے کہا کہ ہاں ، چنانچہ آپ ﷺ نے اس نکاح کو جائز رکھا اور اسے نافذ کیا۔ لیکن یہ حدیث ضعیف ہےجیسا کہ بیان کیا گیا۔ گرچہ اس کا مضمون صحیح ہے بخاری ومسلم کی اس حدیث کی وجہ سے جس میں ہے ”تلاش کرو اگرچہ لوہے کی ایک انگوٹھی ہی ہو، ، ۔


ترجمة هذا الحديث متوفرة باللغات التالية