البحث

عبارات مقترحة:

الأول

(الأوَّل) كلمةٌ تدل على الترتيب، وهو اسمٌ من أسماء الله الحسنى،...

المتعالي

كلمة المتعالي في اللغة اسم فاعل من الفعل (تعالى)، واسم الله...

الرحيم

كلمة (الرحيم) في اللغة صيغة مبالغة من الرحمة على وزن (فعيل) وهي...

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہتی ہیں کہ رسول اللہ اپنی بیویوں میں تقسیم کرتے تھے اور عدل کرتے تھے اور فرماتے تھے ، ” اے اللہ! یہ میری تقسیم ہے جس کا میں مالک ہوں، مجھ کو ملامت نہ کر اس میں جس کا تو مالک ہے اور میں مالک نہیں، ، ۔

شرح الحديث :

اس حدیث میں نبی کریم کے ان حالات کا بیان ہے جس میں وہ اپنی بیویوں کے ساتھ معاملات فرماتے تھے، جس میں ذکر ہے کہ نبی اپنی بیویوں کے درمیان تقسیم کرتے تھے، ہر ایک کو اس کا حق دیتے، ان کے درمیان تقسیم میں عدل کرتے تھے اور معتدل راستہ اختیار کرتے جس میں کسی ایک طرف جھکاؤ نہ ہو – باوجودیکہ آپ عادل تھے اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے معذرت پیش کرتے ، کہ وہ انصاف کرنے کیاتنی ہی طاقت رکھتے ہیں اور اللہ سبحانہ وتعالٰی سے دعا فرماتے تھے کہ جس کا تعلق محبت اور دلی میلان سے ہے جس کی وہ طاقت نہیں رکھتے، اس پر ان کا مواخذہ اور عتاب نہ فرما ۔


ترجمة هذا الحديث متوفرة باللغات التالية