البحث

عبارات مقترحة:

المحسن

كلمة (المحسن) في اللغة اسم فاعل من الإحسان، وهو إما بمعنى إحسان...

المبين

كلمة (المُبِين) في اللغة اسمُ فاعل من الفعل (أبان)، ومعناه:...

القيوم

كلمةُ (القَيُّوم) في اللغة صيغةُ مبالغة من القِيام، على وزنِ...

شرح حديث ۔ صحیح مسلم کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں:

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یقینا اللہ تعالیٰ تمھیں اس بات سے منع کرتا ہے کہ تم اپنے آباو اجداد کی قسم کھاؤ“۔ صحیح مسلم کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”پس اگر کسی کو قسم ہی کھانی ہے، تو اسے چاہیے کہ وہ اللہ کی قسم کھائے، ورنہ چپ رہے“۔ ایک اور روایت میں عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”اللہ کی قسم! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ممانعت سننے کے بعد پھر میں نے ان کی (آبا و اجداد کی) کبھی قسم نہیں کھائی؛ نہ اپنی طرف سے اور نہ کسی دوسرے کی جانب سے (بطور نقل)۔

شرح الحديث :

رسول اللہ ﷺ نے عمر رضی اللہ عنہ کو اپنے والد کی قسم کھاتے سنا، تو انھیں بلند آواز سے پکارتے ہوئے فرمایا: ”یقینا اللہ تعالیٰ تمھیں اس بات سے منع کرتا ہے کہ تم اپنے آباو اجداد کی قسم کھاؤ“۔ چنانچہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم نے رسول اللہ ﷺ کے اس حکم پر من و عن عمل کیا اور وہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کی قسم کھانے لگے، یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کی جانب سے اس بات کی ممانعت سننے کے بعد دوبارہ کبھی غیر اللہ کی قسم نہ کھائی، نہ ہی جان بوجھ کر اور نہ کسی اور کی جانب سے غیر اللہ کے قسم کو نقل کرتے ہوئے۔


ترجمة هذا الحديث متوفرة باللغات التالية