البحث

عبارات مقترحة:

الشافي

كلمة (الشافي) في اللغة اسم فاعل من الشفاء، وهو البرء من السقم،...

المتعالي

كلمة المتعالي في اللغة اسم فاعل من الفعل (تعالى)، واسم الله...

القدير

كلمة (القدير) في اللغة صيغة مبالغة من القدرة، أو من التقدير،...

شرح حديث ابو جرّی الہُجیمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں...

ابو جرّی الہُجیمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا یارسول اللہ !عليك السلام۔ آپ ﷺ نے فرمایا: عليك السلام نہ کہو ۔ عليك السلام سے تو مُردوں کو سلام کیا جاتاہے ۔

شرح الحديث :

مفہوم حدیث : ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر ان الفاظ کے ساتھ سلام کیا: ’’عليك السلام يا رسول الله " ۔ نبی ﷺ نے اسے اس انداز میں سلام کرنے سے منع کردیا اور اس پر ناپسندیدگی کی وجہ سے اس کا جواب بھی نہ دیا ۔ آپ ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ اس طرح سے تو مُردوں کو سلام کیا جاتاہے ۔ پھر آپ ﷺ نے اسے سلام کرنے کا شرعی طریقہ بھی بتایا جیسا کہ ایک دوسری حدیث میں آتاہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ " السلام عليك " کہو۔ آپ ﷺ کا فرمان کہ "ایسے تو مُردوں کو سلام کیا جاتا ہے" اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ زیارت قبور کے موقع پر ان الفاظ کے ساتھ سلام کیا جاتاہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے کہ زیارت قبور کے موقع پر آدمی کو کہنا چاہیے " السلام عليكم أهل دار قوم مؤمنين" ۔ آپ ﷺ کے ایسا فرمانے کا مقصد اس طریقے کی طرف اشارہ کرنا تھا جو مُردوں کو سلام کرنے کے لیے اہلِ جاہلیت کے مابین رائج تھا۔


ترجمة هذا الحديث متوفرة باللغات التالية