البحث

عبارات مقترحة:

الباسط

كلمة (الباسط) في اللغة اسم فاعل من البسط، وهو النشر والمدّ، وهو...

الرحيم

كلمة (الرحيم) في اللغة صيغة مبالغة من الرحمة على وزن (فعيل) وهي...

المتين

كلمة (المتين) في اللغة صفة مشبهة باسم الفاعل على وزن (فعيل) وهو...

رائیگاں، باطل
(الْجُبَارُ)


من موسوعة المصطلحات الإسلامية

المعنى الاصطلاحي

(وہ نقصان) جس میں کسی پر قصاص، دیت اور قیمت کی شکل میں کوئی ضمانت (تاوان) نہ ہو۔

الشرح المختصر

جانور اگر خود کوئی جنایت (نقصان) کریں اور ان کے مالک نے ان کی حفاظت کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کی ہے، تو اس میں کوئی ضمانت نہیں ہے۔ یعنی جس شے کو بھی انھوں نے نقصان پہنچایا اور اسے تلف کردیا ہے، یا پھر اسے اپنے ہاتھ یا پاوں وغیرہ سے زخمی کردیا ہے تو اس میں کوئی ضمانت (تاوان) نہیں ہے۔ کیونکہ یہ ممکن نہیں ہے کہ جانوروں پر یا ان کے مالک پر ضمانت کی ذمہ داری ڈالی جائے؛ اس لیے کہ اس کی طرف سے کوئی زیادتی یا کوتاہی سرزد نھیں ہوئی ہے۔ لھٰذا چوپایوں سے سرزد ہونے والی ہر قسم کی جنایت باطل ہوگی، الا یہ کہ ان کے مالک کی طرف سے کوئی زیادتی یا کوتاہی ہوئی ہو۔ اسی طرح وہ نقصان جو کنوئیں میں اترنے یا معدنیات کو نکالنے کے لیے کان میں اترنے پر ہوتا ہے رائیگاں ہے یعنی اس نقصان میں بھی کوئی ضمانت (تاوان) نہیں ہے۔

التعريف اللغوي المختصر

جُبارُ: کا مطلب ہے رائیگاں اور بے کار۔ کہا جاتا ہے: ”فِعْلُهُ جُبارٌ“ یعنی اس کا کام بے کار ہے۔ اسی طرح ”ذَهَبَ دَمُهُ جُباراً“ یعنی اس کا خون رائیگاں گیا۔