البحث

عبارات مقترحة:

الشكور

كلمة (شكور) في اللغة صيغة مبالغة من الشُّكر، وهو الثناء، ويأتي...

الحفي

كلمةُ (الحَفِيِّ) في اللغة هي صفةٌ من الحفاوة، وهي الاهتمامُ...

الحكيم

اسمُ (الحكيم) اسمٌ جليل من أسماء الله الحسنى، وكلمةُ (الحكيم) في...

لباس (الألْبِسَةُ)


الفقه أصول الفقه

المعنى الاصطلاحي :


لباس سے مراد اون یا چمڑے (لیدر) سے بنی ہوئی ہر وہ چیز ہے جو جسم یا اس کے کسی حصے کو ڈھانپتی ہو۔

الشرح المختصر :


لباس: ہر وہ کپڑا جو جسم کی ستر پوشی کرے۔ لباس کی دو قسمیں ہیں: 1۔ مردانہ لباس: اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ کشادہ اور وسیع ہو، تنگ اور باریک نہ ہو نیز کفار کے خاص (مذہبی) لباس کے مشابہ نہ ہو۔ 2۔ زنانہ لباس: اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ سارے جسم کو ڈھانپنے والا ہو، کشادہ ہو، تنگ اورباریک نہ ہو، شفاف (ٹرانس پیرنٹ) نہ ہو، چمکدار نہ ہو نیز کفار کے خاص لباس اور مردوں کے لباس کے مشابہ نہ ہو۔

التعريف اللغوي المختصر :


’اَلبِسہ‘ لباس کی جمع ہے۔ لباس وہ ہے جس سے بدن کو ڈھکا اور چھپایا جاتا ہے۔ لباس ’لَبْس‘ سے بنا ہے، جس کا مطلب ملنا ہے۔ کپڑے کو لباس اسی لیے کہتے ہیں کیوں کہ کپڑا بدن سے ملا رہتا ہے۔