الله
أسماء الله الحسنى وصفاته أصل الإيمان، وهي نوع من أنواع التوحيد...
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ کسی شخص کا یہ کہنا کہ: "میں اللہ اور تیری پناہ میں آتا ہوں" مکروہ ہے۔ اس کی بجائے اس کے لیے یہ کہنا جائز ہے کہ: "میں اللہ کی اور اس کے بعد پھر تیری پناہ میں آتا ہوں"۔ ابراہیم نخعی فرماتے تھے کہ یوں کہو: "اگر اللہ نہ ہوتا اور پھر فلاں نہ ہوتا تو" اور یوں نہ کہو کہ: "اگرالله اور فلاں نہ ہوتا تو"۔
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ تابعین میں سے ہیں اور ان کے نزدیک مخلوق سے پناہ طلب کرنے کا اللہ سے پناہ طلب کرنے پر" واو "کے ساتھ عطف کرنا حرام ہے؛ کیوںکہ "واو" معطوف اور معطوف علیہ کے فعل میں اشتراک کا تقاضا کرتا ہے اور یہ بات اللہ کے ساتھ شرک کا سبب بنتی ہے۔ تاہم اسےشرک اصغر پر محمول کیا جائے گا۔ اسی طرح کسی منفعت کو اللہ کے فعل کے ساتھ معلق کرنا بھی حرام ہے بایں طور کہ اللہ کے ساتھ کوئی اور بھی ہو، جیسے آپ یہ کہیں کہ: " اگر اللہ اور فلاں شخص نہ ہوتا تو میں صحت یاب نہ ہوتا"۔ اگرچہ یہ حدیث ضعیف ہے، تاہم حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث پر قیاس کرتے ہوئے ممانعت درست ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "یوں نہ کہو کہ جو اللہ چاہے اور جو فلاں چاہے، بلکہ یوں کہو کہ: جو اللہ چاہے اور پھر اس کے بعد جو فلاں چاہے"۔