البحث

عبارات مقترحة:

الظاهر

هو اسمُ فاعل من (الظهور)، وهو اسمٌ ذاتي من أسماء الربِّ تبارك...

الحفي

كلمةُ (الحَفِيِّ) في اللغة هي صفةٌ من الحفاوة، وهي الاهتمامُ...

الجواد

كلمة (الجواد) في اللغة صفة مشبهة على وزن (فَعال) وهو الكريم...

شرح حديث ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مرفوعا روایت ہے کہ: ’’جب...

ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مرفوعا روایت ہے کہ: ’’جب جنازہ (تیار کرکے) رکھا جاتا ہے اور لوگ يا آدمى اسے اپنے کندھوں پر اٹھاتے ہیں، تو اگر وہ نيک آدمی کا جنازہ ہوتا ہے تو کہتا ہے: مجھے آگے لے چلو, مجھے آگے لے چلو۔ اور اگر وہ نيک آدمی کا جنازہ نہیں ہوتا ہے تو وہ کہتا ہے: ہائے ہلاکت! تم اسے کہاں لے جا رہے ہو؟ انسان کے سوا ہر چيز اس کی یہ آواز سنتی ہے, اور اگر انسان اسے سن لے تو بے ہوش ہو جائے۔‘‘

شرح الحديث :

جب جنازے کو چارپائی پر رکھ دیا جاتا ہے اور لوگ اسے کندھوں پر اٹھا لیتے ہیں تو اگر یہ میت نیک اور صالح ہو تو وہ اپنے سامنے دکھائی دینے والی جنت کی نعمتوں پر خوش اور مسرور ہوتے ہوئے کہتا ہے کہ مجھے جلدی لے کر چلو۔ اور اگر نیک نہ ہو تو پھر وہ اپنے گھروالوں سے کہتا ہے: "ہائے ہلاکت! ہائے مصیبت!" کیونکہ اسے اپنا بُرا ٹھکانہ نظر آرہا ہوتا ہے اور اس تک جانا اسے ناگوار ہوتا ہے۔ اس کی اس آواز کو حیوانات و جمادات سمیت تمام مخلوقات سنتے ہیں ماسوا انسان کے اور اگر انسان اسے سن لے تو غشی کھا کرگر جائے یا پھراس کی وجہ سے ہلاک ہی جائے۔


ترجمة هذا الحديث متوفرة باللغات التالية